HealthUrdu

کراچی میں قائم ہونے والے ہیومین ملک بینک کے خلاف فتوی جاری

کچھ دن پہلے کراچی میں ہیومن ملک بینک کا افتتاح ہوا۔ ہیومن ملک بینک جس سے مدرز ملک بینک بھی کہا جاتا ہے، کا مقصد نومولود بچوں کو ماں کے دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ایسے شیر خوار جو کسی بھی وجہ سے ماں کے دودھ کی غذائیت سے محروم ہیں ان کے لیے یہ بینک خواتین ڈونرز سے دودھ اکٹھا کر کے اس کی پروسیسنگ کے بعد نو مولود بچوں کو مہیا کرتا ہے۔

دنیا کے مختلف شہروں میں ایسے بینک کام کر رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں مدرز ملک بینک کے قیام کو شہریوں نے اسلامی تعلیمات سے منحرف ہونے کے مساوی قرار دیا ہے۔ اکثر علماء کی بھی یہی رائے ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے رضاعی ماں اور بہن کی تمیز نہیں رہے گی۔

دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد تقی عثمانی نے نو ذی الحجہ کو ہیومن ملک بینک کے خلاف فتوی جاری کیا اور اس کی ممانعت کی۔ جاری کردہ فتوے میں مجمع الفقہ الاسلامی جدہ ، کی طرف سے بھی ملک بینک کی ممانعت کے متعلق قرارداد کا حوالہ پیش کیا گیا۔

واضح رہے کہ،سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عزرا پیچو ہو نے سات جون کو پاکستان کے پہلے ہیومن ملک بینک کا افتتاح کراچی میں کیا۔ یہ بینک ضلع کورنگی میں سندھ انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی(SICHN) میں اقوام متحدہ کے ادارے UNICEF کے تعاون سے قائم ہوا۔

پروفیسر رضا نے جو کہ سندھ انسٹیٹیوٹ اف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیو نیٹولوجی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں افتتاح پر واضح کیا تھا کہ بینک کو شریعت کے مطابق بنانے کے لیے ڈونر ماؤں اور بچوں کا مکمل ریکارڈ انسٹیٹیوٹ کے پاس رکھا جائے گا اور والدین کو بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ رضاعت کا اصول متاثر نہ ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ SICHNایک ٹیم کچھ اسلامی ممالک میں بھیجی جائے گی جو کہ ہیومن ملک بینک چلانے کی تربیت حاصل کرے گی۔

Back to top button