PakistanUrdu

لنڈی کوتل پریس کلب کے سابق صدر محمد خلیل جبران قتل کیس;میت کی تدفین کردی گئی

خلیل جبران خیبر پختونخوا کے سنیئر صحافی تھے،جو تحصیل لنڈی کوتل کے پریس قلب کے سابق صدر بھی رہے۔آپ ایک نجی ٹی وی چینل کیلیے کام کرتے تھے۔کل بروز بدھ اپنی رہائش گاہ کی طرف لوٹتے ہوۓ، اسلحہ بردار افراد نے ان پر حملہ کیا اور موقع پر ہی جاں بحق ہوگۓ۔ جبکہ ان کے ہمراہ ایڈوکیٹ سجاد تھے جو زخمی ہوۓ۔ان کو طبی امداد کیلیے مقامی اسپتال میں منتقل کر دیا گیا۔

ڈی پی او لنڈی کوتل کے مطابق، ان پر حملہ مرزینہ کے علاقہ میں نامعلوم افراد کی جانب سے ہوا۔البتہ، اس سے قبل ان کو دہشت گردوں کی طرف سے دھمکیاں موصول ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

پاک افغان شاہراہ پر میت رکھ کر احتجاج ریکارڈ کروایا گیا، جس میں نامور صحافیوں نے اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی۔بعد ازاں نماز جنازہ ادا کرکے میت کی تدفین ابائی علاقے میں کردی گٸ۔

ابتداٸی اطلاعات کے مطابق، ان کی گاڑی مزرینہ کے علاقہ میں کچھ خرابی کے باعث رکی تو،اسلحہ بردار نامعلوم افراد نے،ان کو گاڑی سے باہر کھینچا اور فاٸرنگ کرکے قتل کردیا اور ان کے ساتھی ایڈووکیٹ سجاد پر بھی فاٸرنگ کرکے فرار ہوگۓ۔ایڈوکیٹ سجاد کے ابتداٸی بیان کی اساس پر تھانہ لنڈی کوتل میں مقدمہ درج کیا گیا۔

وزیر اعلی خیبر پختو نخوا،سردار علی امین گنڈاپور نے اس واقع کا نوٹس لیتے ہوۓ، قتل کی مذمت کی اور پولیس کو قتل میں ملوث افراد کی گرفتاری کو جلد از جلد یقینی بنانےکی تلقین کی۔

Back to top button