PakistanUrdu

قرآن کی بے حرمتی کے ملزم کو تھانے سے گھسیٹ کر قتل کر دیاگیا

جمعرات کی رات خیبر پختو نخوا کے علاقے سوات میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں ہجوم نے ایک شخص کو مار ڈالا اور اس کی لاش کو آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق اس شخص کو گرفتار کر کے مدیان پولیس اسٹیشن لایا گیا تھا اور بعد میں ہجوم نے اس پر حملہ کر دیا۔ ڈی پی او زاہد نے بتایا کہ ملزم کو تھانے منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ مشتعل افراد تھانے پر حملہ کر کے ملزم کو لے گئے۔اس شخص کو پولیس کی حراست سے گھسیٹ کر باہر لایا گیا اور مار دیا گیا۔

مبینہ ملزم کی شناخت شہر سیالکوٹ کے رہائشی کے طور پر ہوئی ہے جو سوات میں سیاحت کے لیے کےآیا تھا اور مدین کے ایک ہوٹل میں ٹھہرا ہوا تھا۔

مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور ہجوم کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔ ملزم کو قتل کرنے کے بعد ہجوم نے مبینہ ملزم کی لاش کے ساتھ ساتھ پولیس اسٹیشن اور پولیس موبائل وین کو بھی آگ لگا دی۔ پولیس اہلکار موقع پر اسٹیشن سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی۔

پولیس اہلکار نے بتایا کہ اس واقعہ میں کم از کم اٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں انہوں نے ملزم کی موت کی تصدیق بھی کی۔ مزید بتایا کہ قصبے میں بھاری نفری تعینات کی گئی ہے کیونکہ صورتحال ابھی بھی کشیدہ ہے اور اسے قابو میں لانے کی مکمل کوشش کی جا رہی ہے۔

واقعے کے متعلق ویڈیوز سوشل میڈیا پہ گردش کر رہی ہیں۔اس سے قبل، گزشتہ ماہ قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزامات پر سرگودھا میں بھی ہجوم نے احتجاج کیا۔ اور مشتعل افراد نے گھروں پر پتھراؤ بھی کیا تھا۔ اس اشتعال میں زخمی ہونے والا ایک عیسائی شخص راولپنڈی کے ایک ہسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔ دسمبر 2021 میں بھی سیالکوٹ میں ایک ہجوم نے توہین مذہب کے الزامات میں ایک شخص کو تشدد کرکے ماردیا تھا اور اس کی لاش کو جلا دیا تھا۔

Back to top button