UrduWorld

غزہ کے کچھ باشندوں کو علاج کے لیے مصر کی سرحد پار کرنے کی اجازت مل گئی

اسرائیل نے غزہ کے مٹھی بھر بیمار باشندوں کو علاج کے لیے مصر کی سرحد عبور کرنے کی اجازت دے دی۔لیکن 25 ہزار سے زائد مریض غزہ میں مناسب علاج کی سہولتوں کے بغیر پھنسے ہوئے ہیں۔ رفح بارڈر پر قبضے کے بعد اسرائیلی افواج کی طرف سے پہلی بار کچھ بچوں کو علاج کے لیے جانے کی اجازت دی گئی۔

اسرائیلی فورسز کا رفح پر قبضے کے بعد یہ پہلا طبی راستہ ہے جو غزہ کے شہریوں کے لیے کھولا گیا۔ اسرائیل کے مطابق اس نے 19 بیمار اور زخمی بچوں اور ان کے ساتھیوں سمیت کل 68 افراد کو کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے مصر جانے کی اجازت دی ہے۔

غزہ کے ہسپتالوں کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد زقوت نے خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ لیوکیمیا کے 21 مریض جمعرات کو غزہ سے مصر روانہ ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ یہ پچیدہ ہے مگر ہم انخلاء کے اس طریقہ کو قبول کرتے ہیں۔

ڈاکٹر زقوت نے مزید کہا کہ ان مریضوں کو اس طرح باہر لانا ناکافی ہے۔ہم مسلسل رفح بارڈر کو کھولنے پر زور دے رہے ہیں تاکہ مریضوں کی اس بڑی تعداد کو غزہ سے باہر علاج کی اجازت دی جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 ہزار سے زیادہ لوگوں کو بیرون ملک علاج کی ضرورت ہے جن میں کینسر کے 10 ہزار مریض بھی شامل ہیں۔

غزہ میں سرکاری میڈیا کے مطابق ہزاروں مریضوں کو موت کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ انہیں علاج کے لیے دوسرے ممالک سفر کرنے کی ضرورت تھی، لیکن 17 جون کو مصر کے ساتھ رفح سرحدی گزرگاہ کی بندش اور تباہی نے انہیں وہاں جانے سے روک دیا۔ 

عالمی ادارہ صحت نے بھی غزہ سے باہر طبی امداد کی ضرورت والے مریضوں کی تعداد 10 ہزار بتائی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے علاقائی ڈائریکٹر حنان بلخی نے سماجی رابطہ کی ویب سائٹ(ایکس) پر کہا کہ، " غزہ سے شدید بیمار مریضوں کے تمام ممکنہ راستوں سے مستقل، منظم، محفوظ اور بروقت گزرنے کے لیے طبی انخلاء کی راہداریوں کو فوری طور پر قائم کیا جانا چاہیے۔"

ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس نے غزہ سے بیمار بچوں کی طبی انخلاء کی تعریف کی۔ ڈاکٹر ٹیڈروس نےسماجی رابطہ کی ویب سائٹ ایکس پر کہا، " ہم رفح اور کریم شالوم سمیت تمام ممکنہ راستوں کے ذریعے مصر، مغربی کنارے، مشرقی یروشلم،  اور وہاں سے ضرورت پڑنے پر دیگر ممالک تک طبی انخلاء کی سہولت فراہم کرنے کی اپیل کرتے ہیں۔" 

غزہ میں اسرائیل کی تقریبا نو ماہ سے جاری فوجی مہم کے دوران 37700 سے زائد فلسطینی ہلاک اور 86400 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

Back to top button