UrduWomen & Children

غزہ میں تقریبا 21000 بچے لاپتہ ہیں

بین الاقوامی آرگنائزیشن "سیو دی چلڈرن" کے مطابق تقریبا 21 ہزار بچوں کے  ملبے تلے پھنسے ہونے، حراست میں لیے گئے ہونے، یا بے نشان قبروں میں دفن کیے جانے یا اہل خانہ سے جداہو جانے کا اندازہ ہے۔ برطانوی ایڈوکریسی گروپ نے بتایا کہ رفح میں اسرائیل کی جارہیت کی وجہ سے نقل مکانی کے دوران کئی بچے اپنے خاندانوں سے الگ ہوئے۔

سیو دی چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ غزہ کے موجودہ حالات میں معلومات اکٹھا کرنا اور اس کی تصدیق کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ سیف دی چلڈرن کا تخمینہ ہے کہ غازہ میں تقریبا 21 ہزار بچے لاپتا ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ کم از کم 17 ہزار بچے اپنے والدین سے الگ کیے گئے ہیں۔ اور تقریبا چار ہزار بچے ملبے کے نیچے لاپتا ہونے کا امکان ہے۔ بچوں کی ایک نامعلوم تعداد کا اجتماعی قبروں میں دفن کیے جانے کا بھی امکان ظاہر ہوا ہے۔ بچوں کی ایک نامعلوم تعداد کو زبردستی غائب کر دیا گیا جن میں سے کچھ کو حراست میں لیا گیا اور زبردستی غزہ سے باہر منتقل کیا گیا ان کے ٹھکانے کا پتہ نہیں ہے۔

اِنکلیو کی وزارت صحت اور اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے مطابق، سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے غزہ میں 14 ہزار سے زیادہ بچے مارے جا چکے ہیں۔ غزہ کے وزارت تعلیم نے جون کے شروع میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 15 ہزار بتائی ہے۔

سیو دی چلڈرن کے ریجنل ڈائریکٹر برائے مشرق وسطہ جیریمی اسٹونر نے مطالبہ کیا کہ اس کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کو جواب دے ٹھہرایا جائے۔ سیو دی چلڈرن نے جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا۔ مسٹر اسٹونر نے کہا کہ ہمیں جنگ بندی کی اشد ضرورت ہے تاکہ لاپتا ہونے والے بچوں کی تلاش اور ان کی امداد کی جا سکے، جو زندہ بچ گئے ہیں۔ اس طرح مزید خاندانوں کو تباہ ہونے سے روکا جا سکتا ہے۔

Back to top button