UrduWorld

غزہ میں آزادیٔ صحافت پر بھی حملے

 جون 25 بروز منگل بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کی مشترکہ تحقیقات نے غزہ میں 100 سے زائد فلسطینی صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہلاکت کے پس پردہ حالات پر روشنی ڈالی۔تحقیقاتی آؤٹ لیٹ فار بیڈن سٹوریز کی سربراہی میں اے۔ایف۔پی، دی گارڈین اور ارب رپورٹرز فار انویسٹیگیٹو (اے۔آر۔آئی۔جے۔) سمیت 13 تنظیموں کے تقریبا 50 صحافیوں نے چار ماہ کی تحقیقات میں حصہ لیا۔اس تحقیق میں اسرائیلی تباہ کن حملوں میں،صحافیوں اور میڈیا کے بنیادی ڈھانچے پر شامل حملوں پر غور کیا گیا۔

فار بیڈن سٹوریز کے لارینٹ رچرڈ نے کہا، "سو سے زیادہ صحافی اور میڈیا کارکن مارے گئے ہیں۔" انہوں نے مزید لکھا "آج کے غزہ کے صحافی طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ ان کی پریس ویسٹ ان کی حفاظت نہیں کرتی ہے۔اس سے بھی بدتر،حفاظتی پوشاک (پریس ویسٹ) انہیں مزید بے نقاب کر سکتی ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے کارلوس مارٹینیز نے اس تعداد پر صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "یہ پریس کی آزادی پر سب سے زیادہ واضح حملوں میں سے ایک ہے جو مجھے یاد ہے۔" انہوں نے تفتیش سے بتایا اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ "وہ جان بوجھ کر صحافیوں کو نقصان نہیں پہنچاتی اور ہو سکتا ہے صحافیوں کو فضائی حملوں یا فوجی اہداف کو نشانہ بنانے والی آپریشنل سرگرمیوں کے دوران نقصان پہنچا ہو۔" مزید بتایا کہ غزہ میں کم از کم 40 صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو گھر میں رہتے ہوئے ہلاک کیا گیا۔

ایک فلسطینی صحافی باسل خیر الدین نے کہا، "جبکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق پریس ویسٹ کو ہماری شناخت اور تحفظ کرنا چاہیےتھا۔۔۔ اب یہ ہمارے لیے خطرہ ہے۔"

اے۔آر۔آئی۔جے۔ نے 6 جون سے 16 جون تک زندہ بچ  جانے والے 239 صحافیوں کا سروے کیا۔اس میں پتہ چلا کہ جنگ کی وجہ سے 200 سے زیادہ صحافی اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ 72 صحافیوں نے بتایا انہوں نے اپنے خاندان کے افراد کو کھو دیا۔ان میں سے 11 نے بتایا کہ ان کے اپنے بچے مارے گئے ہیں۔ اے۔ایف۔پی کے عالمی نیوز ڈائریکٹر چیٹ وِنڈ نے کہا کہ "غزہ پٹی میں اتنے کم وقت میں 100 سے زائد صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا قتل ہونا مکمل طور پر ناقابل قبول ہے۔اور جو چیز مجھے سب سے زیادہ پریشان کر رہی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے کوئی اسکینڈل نہیں بن رہا دنیا بھر میں مجھے مختلف حکومتوں کی شکایت کی آوازیں نظر نہیں آرہیں۔

فلسطینی جرنلسٹ سنڈیکیٹ (پی۔جے۔ایس۔) کے ترجمان شوروق اسد نے کہا کہ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک میڈیا کے 70 سے زائد دفاتر کو بمباری کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔انہوں نے بھی عالمی غم و غصے کی کمی پر حیرانی کا اظہار کیا۔انہوں نے یوکرین پر روسی حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، "مجھے نہیں لگتا کہ اگر 100 یوکرینی صحافی مارے گئے تو دنیا کا یہ رد عمل ہوگا۔"

Back to top button