Pakistan

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشن ’عزم استحکام‘ منظور

اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان (این۔اے۔پی)کے تحت ہونے والے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم نے آپریشن "عزم استحکام" کے اغاز کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی، سروسز چیفز، چیف سیکرٹریز ،دیگر اعلی سول افسران، فوجی افسران اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران موجود تھے۔

آپریشن عزم استقامت کے ذریعے انسداد دہشت گردی کی قومی مہم کو متحرک کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ پی ایم او کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق انسداد دہشت گردی کے خلاف آپریشن عزم استحکام تمام سٹیک ہولڈرز بشمول صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے اتفاق رائے سے منظور کیا گیا۔

فورم نے انسداد دہشت گردی اور ملکی داخلی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور پاکستان میں چینی شہریوں کے لیے فول پروف سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ بھی لیا جس کا مقصد پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ متعلقہ محکموں کو نئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار جاری کیے گئے جس سے پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے طریقے کار کو بہتر بنایا جائے گا۔

پی ایم او کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ آپریشن عزم استحکام ایک جامع اور فیصلہ کن انداز میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے تمام تر کوششوں کو ہم آہنگ کرے گا۔ یعنی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تمام تر ملکی قوتوں کو یکجا کیا جائے گا اور دہشت گردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل کا قلع قمع کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج کے کردار کو سراہا۔اور مزید کہا کہ دہشت گردی، اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے خلاف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ عوام اور تمام اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سکیورٹی فورسز کو ضروری آلات اور وسائل کی فراہمی کی یقین دہانی کرائی۔آپریشن عزم استحکام میں اقتصادی اور سماجی اقدامات شامل ہوں گے جن کا مقصد انتہا پسندانہ رجحانات کی حوصلہ شکنی کرنے والا ماحول قائم کرنا ہے۔

Back to top button