PakistanUrdu

حج فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی جاری نسل کشی کے پس منظر میں منعقد

حج اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک ہے۔اسے اسلام کا آخری رکن جانا جاتا ہے،جو ہر مسلمان پر جوکہ صاحب استعداد ہو فرض ہے۔یہ مالی، بدنی اور قلبی عبادت ہے۔

حج، جہاں بیت اللہ (خانہ کعبہ)کی زیارت کا نام ہے ، وہاں یہ مسلمانوں کی یگانگت ، مسلم امت کے اتحاد اور بھاٸی چارے کا بھی شاہد ہے۔الگ الگ زبان، نسل ، رنگ ، علاقے کے لوگ متحد ہوکر مشترکہ فریضے کی اداٸیگی کرتے ہیں، اللہ کی بارگاہ میں جھکتے ہیں اور اسی کے بندے ہوکر یگانے ہوجاتے ہیں۔

لیکن جہاں قبلہ میں جمع ہوکر، خانہ کعبہ کی زیارت کرکے بیت اللہ کاطواف کرتے مسلمان دنیا کو ایک اللہ کی متحد فوج اور  مسلم قوت کے اتحاد کی جھلک پیش کررہے ہیں۔وہاں، قبلہ اول (بیت المقدس) کے نھنھے مجاہد شہادت کے جام نوش کررہے ہیں۔اسراٸیلی بربریت کے خلاف، فلسطینی ماٸیں ، بہنیں ، بچے مسلم امت کی طرف دیکھ رہی ہیں۔

غزہ کے مسلمان احرام باندھے بغیر ہی عازمین ہیں۔وہ عزم رکھتے ہیں،حق گوٸی اور شہادت کا۔ مشقتوں کو سہتے اللہ کی وحدانیت اور کبریاٸی بیان کرتے، تشنہ لب اور خالی شکم شہید کردیے جاتے ہیں۔ جو جلتے خیموں میں ، تپتی ریتوں پر وکوف کرکے اللہ کا عرفان تلاش کر رہے ہیں۔ وہ صفا و مروہ پر نہیں ہیں لیکن ان کی سعی جاری ہے۔وہ زندہ ابلیس کا سامنا کرتے ہیں،اس پر کنکریاں اچھالتے ہیں۔

جہاں خانہ کعبہ کے گرد ونواں ایک مسرور کن فضا جنم لے چکی ہے، ہر فرد روحانی قرب اور قلبی سکون محسوس کر رہا ، وہیں قبلہ اول بیت المقدس کے گرد نواں بارودی فضاٸیں راج کر رہی ہیں۔ اسراٸیلی ناانصافیوں اور بربریت کے سبب بچے اسپتالوں، گلیوں، پناہ گاہوں میں دم توڑرہے ہیں۔

حج کے بابرکت لمحات میں غزہ اور فلسطین کے مظلوموں کو اپنی دعاٶں میں یاد رکھیے۔اور ان کی آواز بنیے۔

Back to top button