EconomyUrdu

بجٹ 2024: نہ جینے دوں گا، نہ جانے دوں گا

بجٹ 2024 کی عوام کو تنبیہ; نہ جینے دوں گا، نہ جانے دوں گا۔ بجٹ میں حکومت نے نئے اقدامات کرتے ہوئے ہوائی سفر پر ٹیکس بڑھا کر نہ صرف ملک میں رہنا مشکل بنا دیا بلکہ ملک چھوڑنا بھی مہنگا کر دیا۔

 پاکستان کی قومی اسمبلی کے منظور کردہ وفاقی بجٹ کے مطابق یکم جولائی سے ملک بھر میں آمدنی کے ہر تصوراتی ذریعہ، اثاثوں اور قابل استعمال اشیاء پر ٹیکس لگا دیا گیا۔ تاکہ عوام کو وفاقی بجٹ کی مالی اعانت کے لیے 1.7 ٹریلین روپے اضافی ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ اور اس مقصد کے تحت پاکستان حکومت کی جانب سے بین الاقوامی ہوائی ٹکٹوں پر ٹیکس کی شرح میں بھی ہوش ربا اضافہ کر دیا گیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سٹاک مارکیٹ کے لین دین پر ٹیکس لگانے کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار طبقے کے ٹیکس میں 10 فیصد سرچارج مزید بڑھا دیا۔ تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد کو کوئی ریلیف دینے کی بجائے حکومت کے مشورے پر قومی اسمبلی نے تنخواہدار پر انکم ٹیکس کی موثر شرح بڑھا کر 39 فیصدکردی گئی۔ ایسوسییشن آف پرسنز سے 40 فیصد انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا اور ایک سر چارج کے اثرات کو شامل کرنے کے بعد یہ فرمیں 44 فیصد تک ٹیکس ادا کریں گی۔جبکہ غیر تنخواہ دار افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح 50 فیصد تک کردی گئی۔

حکومت کے تازہ ترین بجٹ میں ہوائی سفر کے اخراجات میں  بھی بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا۔ یکم جولائی سے حکومت نے مختلف بین الاقوامی مقامات کی ہوائی ٹکٹوں پر نئی ایکسائز ڈیوٹی متعارف کرادی۔

سرکاری اشتہار کے مطابق ریاست ہائے متحدہ امریکہ، کینیڈا، شمالی اور لاطینی امریکہ جیسی منزلوں کی طرف بزنس یا کلب کلاس میں جانے والے مسافروں کے لیے ایکسائز ڈیوٹی ساڑھے دو لاکھ روپے (250000)سے بڑھا کر ساڑھے تین لاکھ روپے(350000) کر دی گئی۔ یعنی ایکسائز ڈیوٹی میں ٹیکس کی مد میں ایک لاکھ روپے (100000)تک کا بڑا اضافہ ہوا۔

یورپی ممالک کے لیے بزنس کلاس فلائٹس اب دو لاکھ 10 ہزار روپے(210000) ایکسائز ڈیوٹی کے ساتھ آئیں گی۔ یہ رقم پہلے تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار روپے تھی یعنی 60 ہزار روپے تک کا اضافہ ہوا۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے سفر کے لیے بھی یہی اضافہ دیکھنے کو ملا۔ حتاکہ ایشیائی مقامات مثلاً چین، ملیشیا اور انڈونیشیا کے سفر کے لیے بھی ایکسائز ڈیوٹی 2 لاکھ 10 ہزار روپے کر دی گئی۔

مشرق وسطی اور افریقی ممالک بشمول سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مسافر 30 ہزار اضافی ایکسائز ڈیوٹی ادا کریں گے،اب ان ممالک کی طرف سفر کی ایکسائز ڈیوٹی ایک لاکھ پانچ ہزار روپے(105000) ہوگی۔

ٹیکسوں کی اس نئی لہر کے تحت عام شہریوں کی زندگیاں انتہائی مشکلات کا شکار ہو رہی ہیں۔عام شہریوں کی زندگی مشکل بنانے کے باوجود حکومت نے حاضر سروس اور ریٹائرڈ بیوروکریٹس اور حاضر سروس اور ریٹائرڈ فوجی اہلکاروں کی جائیدادوں کی فروخت پر انکم ٹیکس سے استثنیٰ دے دیا۔

Back to top button